داونگرے ،4؍ فروری (ایس او نیوز) سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کے خلاف ملک بھر میں احتجاجات ہورے ہیں۔ ملک کے مسلمان دلت اور غریب طبقے کے لوگ اپنے ہاتھوں میں ترنگا اٹھا ئے ہوئے ان قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔اس طرح ملک میں جگہ جگہ شاہین باغ بننے جارہے ہیں ان خیا لات کا اظہار معروف کنڑا ادیپ رمضان درگاہ نے کیا۔
داونگرے شہرکے بال بھون میں حسین برادرس اور سنیہا پبلی کیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں امتیاز حسین کی کتاب کا إجراء کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ان دنوں جمہوریت پسندوں اور فرقہ پرستوں کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ جمہوریت پسند چاہتے ہیں کہ اس ملک کا سکیولر کردار قائم رہے اور ملک میں آئین کی حکومت ہو ۔ لیکن فرقہ پرست ملک میں منوسمرتی لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ لڑائی کسی طبقہ کے لوگوں یا کسی مذہب کے ماننے والوں کی نہیں ہے بلکہ ملک سے تمام جمہوریت پسند، دلت ، مسلمان اور غریب ہندوستان کا دستور بچانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون لا کر ملک کے کروڑوں لوگوں کو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس کام کے لئے 10 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ مرکز ی حکومت 10 سال تک دیگر ترقیاتی کاموں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ساری توجہ این آر سی پر لگائے گی۔ این آڑ سی سے ملک کے عوام کا کچھ بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ بلکہ اس سے ملک کی ترقی کو نقصان پہنچے گا۔ اور وہ ترقی کے معاملے میں دیگر ممالک سے پیچھے ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی حالت پہلے ہی بہت خراب چل رہی ہے۔ تعلیم کا معیار گرتاجارہا ہے ۔ ملک کے کروڑوں لوگوں کو بنیادی سہولتیں تک فراہم نہیں ہیں۔ مرکزی حکومت ان کاموں کی طرف توجہ دینے کی بجائے ملک کے موجودہ حالات میں طلبہ آواز اٹھارہے ہیں لیکن حکومت ان کی آواز دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں طلبہ کو تشدد کے لئے اکسارہی ہیں۔ حکومت کے خلاف پرامن طریقے سے احتجاج کرنے والوں پر فرقہ پرست طاقتوں کے لوگوں گولیاں چلارہے ہیں۔
اس موقع پر سپروا کالج کے پرنسپل دادا پیر نونہال ، معروف ادیب پروفیسر مہیش ، سینئر صحافی سنت کمار ، چند شیکھر تالیہ، چلکیرے کے تحصیلدار ملکارجن اور دیگر شریک رہے۔